حالیہ ایک دو دہائیوں میں ہمارے ملک میں تحقیقی سرگرمیاں زیادہ ترجامعات میں دیکھنے میں آرہی ہیں اور ان کے فروغ میں ایک بڑاکردارسرکاری سطح پر جامعات میں قائم تعلیم و تحقیق کے سرپرست و نگران ادارے ’’ہائر ایجوکیشن کمیشن‘‘ (ایچ ای سی)نے اپنے ذمے لے رکھا ہے، جس نے ایسے متعددمفید اقدامات تجویزکیے ہیں کہ جن کے تحت جامعات میں معیاری تحقیق کو فروغ حاصل ہواور ان سے اساتذہ میں تحقیقی مطالعات کا ذوق و شوق پیدا ہو اور وہ اپنی تحقیقات و مطالعات میں عالمی سطح کے معیارتک پہنچ سکیں۔تحقیق کے معیار کا ایک اظہار اس امر پر بھی منحصر ہے کہ وہ تحقیق کس حد تک حصول ِ نتائج میں کامیاب رہی ہے؟اور اس نے کس حد تک ایک معیاری تحقیق کے لیے مقررہ اصول و ضوابط اور رسمیات و لوازمات کی پاس داری کی ہے؟ اور ساتھ ہی آیا وہ سرقے(Plagiarism) سے گریزں ایسی تحقیق ہے جو محقق کی ذاتی محنت، جستجواور کدوکاوش کا نتیجہ ہے؟ Read More →

ہمارے ملک میں ایک نظم کے تحت مطالعات و تحقیق کی روایت، دیگر تمام ملکوں اور معاشروں کی طرح، جامعات اور تحقیقی فروغ کے اداروں میں موجود نظر آتی ہے یا قدرے انفرادی و نجی کاوشوں میں بھی ہم اسے دیکھتے ہیں، جو بالعموم اداروں اور جامعات سے منسلک مصنفین و محققین نے انجام دیں۔ صورت ِ حال جو بھی ہو لیکن اس روایت کے تحت عمومی نوعیت کے مطالعات کے ساتھ ساتھ بہت اعلیٰ سطحی اور معیاری مطالعات و تحقیقات بھی سامنے آئیں جن سے متعلقہ علوم کے خلا کے پُر ہونے کے علاوہ نئی دریافتیں بھی منظر عام پر آئیں اورمتعدد قدیم و نو دریافت متون بھی مرتب و شائع ہوئے۔ اس طرح ایک زمانہ تھاکہ تحقیقات و مطالعات میں ہمارے محدودملکی وسائل کے باوجود علمی سطح پر ہم نے ایسے ایسے عظیم الشان کارنامے بھی انجام دیے کہ عالمی سطح پر بعض شعبوں میں ہماری قوم کے اکابر کا ایک نام بھی رہا۔ سائنس دانوں، انجینیروں اور طبی ماہرین میں بھی ایسے لوگ پیدا کیے، جنھوں نے یہاں اپنے ملک میں بھی اور بیرون ملک آباد ہوکر وہاں بھی، اپنا اور اپنے ملک کا نام روشن کیا۔Read More →