Call For Paper

مقالہ نگاروں کے لیے سفارشات

مجلہ ’’تحصیل‘‘ اس امر پر مصر ہے کہ ما خذ /مآخذ سے استفادہ کے بغیر کسی مقالے یا مطا لعے یا تحقیق کو استناد حاصل نہیں ہو سکتا،اس لیے مقالہ نگا ر کو اپنے تما م حاصلا ت و نتا ئج کو،ہر ہر ضروری مقام پر استناد کے ساتھ پیش کر نا چا ہیے تا کہ مطا لعے اور مقالے کو اعتبار حا صل ہوسکے۔

استنا د کے حوالو ں کے لیے ،بین السطور بھی اور حواشی میں بھی ،اس وقت بد قسمتی سے اردو میں کسی ایک اصول اور ضا بطے پر محققین کا اتفا ق نہیںہے۔یا تو حوالے کسی قدیم اور فرسودہ اور ازکار رفتہ طر یقے سے درج کر دیے جا تے ہیں،یا زیا دہ سے زیا دہ ’’شکا گو مینول ‘‘(Chicago Manual)کے اختیا ر کیے جانے کا اعلان کر دیا جاتا ہے۔جب کہ آج عالمی سطح پر معیا ری مطالعات محض شکا گو مینول پر بھی صاد نہیں کر رہے بلکہ اس میں بھی اپنی اپنی ضرورتوں،سہولتوںاور خواہش کے مطا بق تبدیلیاں روا رکھی جا رہی ہیں۔مجلہ ’’تحصیل‘‘اس صورت حا ل کو تحقیق کے معیار کے لیے مناسب نہیں سمجھتا اور ذیل میں سفا رش کر دہ ایسے اصولو ں پر اصرار کر تا ہے جو مرو جہ اور جدید سا ئنٹی فک اصولو ں پر مبنی ہیں،جو تحریر اور مطا لعے۔۔۔دونوں کے لیے با سہو لت ،آسان اور مفید بھی ہیں اور عالمی سطح پر معیاری مطالعات میں مروج بھی ہیں۔۔چناںچہ مجلہ ’’تحصیل‘‘کا اپنے مقالہ نگا روں سے اصرار ہے کہ وہ اپنے مطا لعات اور تحقیقا ت کو مندر جہ ذیل سفا رشات کا لحا ظ کر تے ہو ئے مکمل کر یں :

(۱) مقالہ یکسر نئے اور اچھوتے موضوع پر ہو، یا کسی سابقہ مطالعے کی تنقیح وتصحیح پر مبنی ہو، لیکن اس میں نئے انکشافات یا دریافت یااگر اختلافی ہو تو تردید کے مسکت پہلومستند حوالوں کے ساتھ ضرور بیان ہوں۔

(۲) تمام بیانات و مباحث کے ساتھ مآخذ و مصادر کی مفصل نشاندہی ضرور کی جائے، اور ان کے لیے ان اصولوں و ضوابط کی پیروی کی جائے جن کی مثالیں ذیل میں درج ہیں۔

مقالات کے تحریر کرنے کے ضمن میں ہماری خواہش ہے کہ یہ:

۱۔ ان پیج میں کتابت ہوں،

۲۔ حروف کی جسامت (فونٹ سائز) متن کے لیے ۱۴ اور حواشی، فہرست اسناد محولہ اور اقتباسات کے لیے ۱۲ ہو۔مرکزی سرخی ۱۸میں اور ذیلی سرخیاں ۱۶ میں ہوں۔مسطر کاحجم یا متن کی لمبائی چوڑائی ۵x۸ انچ رکھی جائے۔

۳۔مقالے کے ساتھ انگر یزی زبا ن میں اس کا خلا صہ ضرور شا مل کیا جا ئے جو زیا دہ سے زیا دہ ۱۵ سطروں پر مبنی ہو اور اس میں مقالے میں درج اہم بنیادی الفاظ (Key Words)کی نشاندہی ضرور کریں۔

۴۔مقالے کی سو فٹ کا پی مجلے کے ای میل کے پتے پر ارسال کی جائے۔

۵۔ یہ بہتر ہوگا کہ اردو مقالا ت میں حواشی مقالے کے آخر میں ہوں اور ان میں اور کتابیات میں کتابوں کے عنوانات خط نسخ میں درج کیے جائیں۔انگر یزی مقالا ت میں حواشی پا ورقی ہو سکتے ہیں۔انگریزی مآ خذ کا حوالہ حا شیے میں اور کتا بیا ت میں سید ھی جا نب اردو میں دیا جا ئے گا،اور مصنف کا نام اگر انگر یزی میں ہو تو اسے پہلے اردوا ور پھر قو سین میں رومن میں تحریر کیا جائے گا۔ہر مقالے کے مآخذ یا مصادرپر مشتمل کتابیات ضرور مقالے کے اختتام پر حواشی کے بعد شامل کی جائے۔اس کا اصول یہ ہو نا چا ہیے۔

کتا بو ں کے حوالے

برنی، ضیاء الدین، ۲۰۰۵ء ، تاریخ فیروز شاہی،بہ تصحیح و مقدمہ سرسیداحمد خان،علی گڑھ،سرسید اکیڈمی، (عکسی اشاعت، طبع اول، کلکتہ، ایشیاٹک سوسائٹی، ۱۸۶۲ء)،ص ۱۰

لیکن اگر اس کتاب میںشامل سرسید احمد خان کے تحریر کردہ مقدمے سے استفادہ کیا گیاہے تو اس کا حوالہ، حاشیے میں یوں ہوگا:

خان، سید احمد، ص ۷

اگر ’’فہرست اسنادِ محولہ‘‘ میں کوئی اور مصنف ایسا نہیں، جس کا نام ’’خان‘‘ کے تحت درج ہو تو پھر یہ حوالہ اس طرح درج ہوگا:

خان، ص ۷، یا خان، مقدمہ، ص ۷؛ یا خان، مقدمہ : تاریخ فیروز شاہی، ص ۷

اور اگر سرسید کی کوئی اور تصنیف بھی اس مقالے میں استفادے میں آئی ہے تو پھر یہی حوالہ حاشیے میں اس طرح ہوگا:

خان، سید احمد، مقدمہ: تاریخ فیروز شاہی،ص ۷